یمن پہ اسلامی سپہ سالار اندھا دھند گولہ باری کر رہے تھے اور یمنی لوگ اپنے بچوں کے چیتھڑے اٹھا اٹھا کر پوری دنیا کو دکھا رہے تھے، جب شام میں کمسن بچوں کی گردنیں کاٹ کر درختوں پہ لٹکائی جا رہی تھیں اور  ایک شامی لڑکی سے سات سات اسلامی مجاہدین  جہاد النکاح کر رہے تھے اور کشمیر کی بیٹیاں اپنی عزتیں لُٹا کر جان دے رہی تھیں تب پوری دنیا خاموشی سے تماشا دیکھتی رہی، تب مسلمان حکمران ظالموں کا ساتھ دے رہے تھے، یمنی ، شامی اور کشمیری گڑ گڑاتے رہے مگر ہم گونگے بہرے ہوگئے،

مگر
آج پوری دنیا کو اپنی موت دکھائی دے رہی ہے، ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے بیڈ نہیں بچے، مرنے والے ایسے مر رہے ہیں کہ اپنے ہی اپنے پیارے کی شکل نہیں دیکھ سکتے، نا غسل نا کفن بس شاپر میں لپیٹ کر گڑھے میں پھینکے جا رہے ہیں،
آج ہم مر رہے ہیں اور یمن ، شام اور کشمیر والے خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں،

کل ہمیں حی علی الصلوة کی صدا آتی تھی ہم خدا کی طرف جاتے نہیں تھے آج ہم خدا کے گھر جانا چاہتے ہیں پر خدا ہمیں آنے نہیں دے رہا، جب آپ ظلم پہ خاموش رہیں گے تو آپ بھی ظالمین کے ساتھ برابر کے شریک پائے جائیں گے، آج آپ آدھی رات کو چھتوں پہ جاکر اذانیں دیں یا ساری رات سجدے میں پڑے رہیں مظلوموں کا حساب دینا ہوگا۔

مظلوموں کی آہیں عرش تک پہنچ چکی ہیں اور آسمان والے نے اپنے گھر کے دروازے ہم پہ بند کر دئیے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

Digital Payment is the best way during COVID-19